26 اپریل 2013 - 19:30
کوئٹہ، امن و امان کے حوالے سے اجلاس

اجلاس میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ حکومتی مشینری اور انتظامیہ انتخابات میں قطعی طور پر غیرجانبدار رہے گی اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے بتایا کہ تمام اضلاع میں پولیس کو ناکوں، گشت اور چیکنگ میں اضافے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔

ابنا: حکومت بلوچستان نے مسلم لیگ (ن) کے صوبائی صدر نواب ثناءاللہ زہری پر ہونے والے بم حملے کے واقعہ جس میں ان کا بیٹا، بھائی اور بھتیجا جاں بحق ہوئے، کی تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ نگران وزیراعلیٰ بلوچستان نواب غوث بخش خان باروزئی کے زیر صدارت سوموار کے روز منعقد ہونے والے اعلیٰ سطحی اجلاس میں کیا گیا۔ جس میں صوبہ بھر بالخصوص قلات ڈویژن میں امن و امان کی صورتحال اور صوبے میں انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جاری اور مجوزہ اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ چیف سیکرٹری بلوچستان بابر یعقوب فتح محمد، سیکرٹری داخلہ اکبر حسین درانی، آئی جی پولیس مشتاق احمد سکیھرا، سیکرٹری خزانہ دوستین جمالدینی، کمشنر قلات غلام علی بلوچ، ڈی آئی جی اسپیشل برانچ رحمت اللہ نیازی اور ڈی آئی جی ایف سی بریگیڈیئر خالد نے اجلاس میں شرکت کی۔

وزیراعلیٰ بلوچستان کی ہدایت کی روشنی میں خضدار واقعہ کے حقائق جاننے اور اس کے ذمہ دار عناصر کے تعین کے لیے واقعہ کی تحقیقات مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) کے ذریعہ کرانے کا فیصلہ کیا گیا۔ جو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور ایجنسیوں کے حکام پر مشتمل ہوگی۔ سیکرٹری داخلہ کی جانب سے اجلاس کو انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے، پولنگ اسٹیشنوں پر فورسز کی تعیناتی کے پلان اور ابتدائی طور پر زیادہ حساس اور معمول کے قرار دئیے گئے پولنگ اسٹیشنوں کے بارے میں بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ حساس اضلاع اور پولنگ اسٹیشنوں پر سکیورٹی فورسز کی تعیناتی کے پلان کو حتمی شکل دینے کے لیے پولنگ اسٹیشنوں کی دوبارہ سے درجہ بندی کی جائیگی۔ متعلقہ ضلع کے ڈپٹی کمشنر، ضلعی پولیس افسر اور اسپیشل برانچ کے نمائندہ پر مشتمل کمیٹی، پولنگ اسٹیشن کا سابقہ ریکارڈ اور علاقے میں امن و امان کی صورتحال دیکھ کر پولنگ اسٹیشن کے درجہ کے حوالے سے فیصلہ کریگی، اور زمینی حقائق کو سامنے رکھتے ہوئے پولنگ اسٹیشنوں کی درجہ بندی میں ترمیم کرکے زیادہ حساس پولنگ اسٹیشنوں کی تعداد میں کمی کی جائے گی تاکہ موثر حفاظتی اقدامات کو یقینی بنایا جا سکے۔
 
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ انتخابات کے دوران قلات اور مکران ڈویژن کو سکیورٹی کے حوالے سے حکومت کی اولین ترجیح حاصل رہے گی۔ قلات اور مکران ڈویژن سمیت دیگر ڈویژنوں میں 25 اپریل تک فورسز کی اضافی تعیناتی کا عمل مکمل کیا جائیگا اور حساس اضلاع میں فورسز کی موجودگی کو ترجیحی بنیادوں پر یقینی بنایا جائیگا۔ سیکرٹری داخلہ نے بتایا کہ انتخابات کے دوران امن و امان برقرار رکھنے کے لیے جاری اقدامات کی نگرانی متعلقہ امور کا جائزہ لینے اور بروقت فیصلوں کے لیے محکمہ داخلہ میں کنٹرول روم قائم کردیا گیا ہے۔ جو 25 اپریل سے چوبیس گھنٹے کام کریگا۔ چیف سیکرٹری نے کنٹرول روم کا معائنہ کرتے ہوئے اسے مزید موثر بنانے کی ہدایت کی ہے۔ اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ صوبے میں پرامن اور سازگار ماحول میں انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام وسائل اور موجود فورسز کو بھرپور طریقے سے استعمال کیا جائیگا اور متبادل پولنگ سٹاف بھی تیار رکھا جائیگا۔

اجلاس میں پولنگ سٹاف کے بھرپور تحفظ سے متعلق امور پر بھی تبادلہ خیال کرتے ہوئے انہیں حتمی شکل دی گئی۔ اجلاس میں اس عزم کا اعادہ بھی کیا گیا کہ حکومتی مشینری اور انتظامیہ انتخابات میں قطعی طور پر غیرجانبدار رہے گی اور انتخابی عمل میں کسی قسم کی مداخلت کو ہرگز برداشت نہیں کیا جائے گا۔ اس موقع پر آئی جی پولیس نے بتایا کہ تمام اضلاع میں پولیس کو ناکوں، گشت اور چیکنگ میں اضافے کی ہدایت کر دی گئی ہے۔ جبکہ چیف سیکرٹری نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ بلوچستان کے حالات اور صورتحال دیگر صوبوں سے مختلف ہے، جس کی وجہ سے انتخابی مرحلہ انتہائی مشکل ہوگا۔ تاہم متعلقہ اداروں نے اسے چیلنج کے طور پر لیا ہے۔ اور جامع سکیورٹی پلان ترتیب دیکر اس پر عملدرآمد کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

اجلاس میں چیف سیکرٹری کی جانب سے اس تجویز کی تائید کی گئی کہ فورسز کے ریٹائرڈ ملازمین کی عارضی بنیادوں پر خدمات حاصل کرکے انہیں سیاسی رہنماؤں کے تحفظ کیلئے تعینات کیا جائے۔ ان ریٹائرڈ ملازمین کو تنخواہ صوبائی حکومت ادا کریگی۔ وزیر اعلیٰ نے اس تجویز کو عملی جامع پہنانے کی منظوری دی۔ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ انتخابات میں کامیابی سے اُمیدواروں کو طاقت ملتی ہے اور یہ طاقت کے حصول کا ذریعہ ہے۔ ہمیں انتخابات کے حوالے سے قبائلی تنازعات اور پارلیمانی سیاست کی مخالفت کرنے والے عناصر کی جانب سے انتخابی عمل میں رکاوٹ پیدا کرنے سمیت دیگر مسائل و مشکلات کا سامنا ہے۔ جو ہمارے لئے چیلنج کی حیثیت رکھتے ہیں۔ تاہم اگر سیاسی عزم اور کام کرنے کا حوصلہ ہو تو کوئی مشکل نہیں۔
 
انہوں نے ہدایت کی کہ انتظامیہ مکمل طور پر غیرجانبدار رہتے ہوئے اپنی رٹ قائم کرے۔ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ ریاستی مشینری کا اس بات سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیئے کہ کونسا امیدوار جیت رہا ہے یا کون سے امیدوار کو شکست ہو رہی ہے۔ ریاست سب کے ساتھ یکساں رویہ رکھنے کی پابند ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر لوگوں کے جائز کام نہ روکے جائیں اور ناجائز کام نہ کئے جائیں، میرٹ کو ملحوظ خاطر رکھا جائے تو یقیناً حالات میں بہتری آئے گی اور حکومتی رٹ بھی قائم ہوگی۔ وزیراعلیٰ نے قومی شاہراہوں کو محفوظ بنانے کی خصوصی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ وہ امن و امان برقرار رکھنے اور قبائلی تنازعات کے پرامن حل کیلئے قبائلی رہنماؤں سے رابطے کریں گے۔

.......

/169